بنگلورو،17؍دسمبر(ایس او نیوز) دس ہفتوں کے اندر برہت بنگلورو مہا نگر پالیکے (بی بی ایم پی)کے لئے انتخابات کروانے کے لئے کرناٹک ہائی کورٹ کی طرف سے دئیے گئے فیصلہ کا چیلنج کرتے ہوئے حکومت کرناٹک کی طرف سے سپریم کورٹ میں جو عرضی داخل کی گئی ہے اس کی سماعت جمعرات کے دن طے ہوئی ہے۔ حال ہی میں کانگریس کارپوریٹرس عبدالواجد اور ایم شیو راج کی طرف سے دائر عرضی پر ہائی کور ٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کرناٹک کو ہدایت دی تھی کہ 10ہفتوں کے اندر بی بی ایم پی کی نئی کونسل کے لئے انتخابات کروائے جائیں۔
ریاستی حکومت نے اس کے بعد بی بی ایم پی کے وارڈوں کی تعداد 243کرنے اور میئر کی مدت اقتدار کو 30ماہ تک بڑھانے کے سلسلے میں ایک بل اسمبلی اور کونسل میں پاس کروالیا اور اسے اب ایک قانون کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس نئے قانون کا حوالہ دے کر ریاستی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ سے مہلت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔4دسمبر کو اسی بنیاد پر ریاستی حکومت کی طرف سے ہائی کورٹ سے بھی درخواست کی گئی تھی کہ بی بی ایم پی قانون میں نئی ترمیم کے پیش نظر حکومت کو انتخابات کروانے کے لئے وقت درکار ہے اس لئے نئے وارڈوں کی حد بندی کے لئے نئے کمیشن کی تشکیل سمیت دیگر قانونی تقاضوں کا حوالہ دے کر انتخابات کو ٹالنے کے لئے عدالت عظمی سے گزارش کی جا سکتی ہے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس سے پہلے بی بی ایم پی انتخابات کروانے کے سلسلے میں جو فیصلہ سنایا تھا اگر اسی کو تازہ معاملہ میں بھی دہرایا جاتا ہے تو امکان ہے کہ عدالت عظمٰی کی طرف سے کرناٹک ہائی کور ٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت کو یہ ہدایت دی جا ئے گی کہ جلد از جلد بی بی ایم پی انتخابات کروائے جائیں۔